جے پور،31؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)راجستھان میں مسلسل نویں دن بھی سیلاب سے بگڑے حالات میں تبدیلی نہیں ہے۔ریاست کے6اضلاع پالو،جالور،سروہی، باڑ میر، جودھپور اور جیسلمیر کے قریب 2000لوگ اب بھی سیلاب کی گرفت میں ہیں،اگرچہ اتوار کو ان علاقوں میں بارش کم ہوئی ہے لیکن اب بھی سیلاب کے حالات بنے ہوئے ہیں۔فوج، این ڈی آر ایف کی ٹیم چوبیس گھنٹے لوگوں کو پانی سے نکالنے میں مصروف ہیں۔راجستھان میں بارش کی وجہ سے اب تک 41لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔باڑمیر میں تو 15سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے اور 17انچ بارش ہوئی ہے جس سے لوی دریا ابال پر ہے۔باڑمیر کے 35گاؤں کے 3000لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ساچور-گجرات، باڑ میر-جالور، سمدڑی-جودھپور اور جودھپور-باڑمیر ہائی وے بند ہیں۔باڑمیر میں مسلسل آسمان سے برس رہی آفت کی اس بارش نے ٹرینوں کی رفتار بھی روک دی ہے۔ضلع کے تلواڑا گاؤں کے قریب لوی دریا کا پانی ریلوے ٹریک پر آ جانے کی وجہ سے باڑ میر کو آنے جانے والی تمام ٹرینوں کو منسوخ کیا گیا ہے۔غور طلب ہے کی باڑ میر ضلع میں مسلسل وقفے وقفے ہو رہی بارش کے بعد حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کی ٹرینوں کی رفتار رکنے سے کئی مسافروں کو پریشانیو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جودھپور ضلع کے اوسیا علاقے کے بھیروساگر گرام پنچایت کی آمدنی گاؤں ریلاگڑھ میں ٹورنیڈو (طوفان)نے تباہی مچا دی۔عینی شاہدین نے بتایا کہ اس طوفان نے تقریباََ15سے 20کھیتوں میں فصلوں اور درخت پودوں سمیت پتھر کی دیواروں کو منہدم کر دیا۔اس کی رفتارتقریباََ150سے 200کلو میٹر فی گھنٹہ کی تھی۔طوفان تقریبا ایک کلو میٹر تک چلا اور اس کی چوڑائی تقریباََ150میٹرتک رہی۔اطلاع کے بعد سویرے انتظامیہ کے افسران عوامی نمائندے اور دیہاتیوں نے موقع معائنہ کیا۔